کمٹہ :27؍اپریل (ایس اؤ نیوز ) اترکنڑا ضلع کے ریاستی انتخاباتی حلقوں میں کمٹہ حلقہ سب سے زیادہ تجسس کا مرکز بنا ہواہے، حلقہ میں سہ رخی مقابلہ ہورہاہے۔ دونوں قومی پارٹیوں کے اندر اختلافات و انتشارکے حالات ہیں ۔ جو کسی وقت بھی دھماکے کی صورت اختیار کرلیتاہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
سال 2018کے ریاستی انتخابات کے دوران پریش میستا اور نریندرمودی کی لہر کے چلتے کمٹہ حلقہ میں بی جےپی سے کسی بھی امیدوار کی جیت یقینی مانی جارہی تھی ۔ اس وقت بی جےپی ٹکٹ کے خواہش منداور فرنٹ رنر سورج سونی کی سازش کے تحت فسادات کے معاملات میں گرفتاری کرائی گئی اور پھر اس کے بعد جے ڈی ایس سے بی جے پی میں شامل ہوئے دنیکر شٹی ٹکٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔ جب کہ سورج سونی بی جےپی سے بغاوت کرتےہوئے آزاد امیدوار کے طورپر انتخابی جنگ لڑتےہوئے 20ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے۔
حالیہ انتخابات میں بی جےپی امیدوار دینکر شٹی کے خلاف خود پارٹی کے اندر ہی عدم اطمینان ہےاور اقتدار مخالف ہوا تیز ہونےکی وجہ سے ٹکٹ کے خواہش مندوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی ۔ حلقہ بھر میں کسی حال میں بھی دنیکر شٹی کو ٹکٹ نہ ملنےکی باتیں گردش کررہی تھیں۔ لیکن ضلع بھر میں حالیہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دئیے جانے سے ظاہری طورپر بی جےپی کے حالات معمول پر لگتے ہیں لیکن دنیکر شٹی کے خلاف پارٹی کے اندر ماحول پائے جانے سے نتیجہ پر کافی اثر پڑ سکتاہے۔
اسی طرح شاردا شٹی بھی پر اعتماد تھیں کہ کانگریس کی طرف سےانہیں کو ٹکٹ ملے گا۔ لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ نویدیت آلوا کو ٹکٹ ملا ۔ جس کےچلتے پارٹی میں بغاوت ہوئی ۔ شارداشٹی نے باغی امیدوار کے طورپر پرچہ نامزدگی بھی داخل کیں ، پھر اس کے بعد اعلیٰ کمان کے دباؤ میں آکر آخری دن اپنا پرچہ نامزدگی واپس لیتے ہوئے ساست سے ہی کنارہ کش ہونے کا اعلان کیا۔ ماناجارہاہے کہ شاردا شٹی کے اس رویہ سے کانگریس کو نقصان ہواہے۔ اگر شاردا شٹی انتخابی تشہیر نہیں کرتی ہیں تو یقینا ووٹ تقسیم ہونگے اور کانگریس کو نقصان ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔ جس کا پس پردہ اثر کانگریس امیدوار نویدیت آلوا پر ہوگا۔
تیسری جانب سورج سونی جے ڈی ایس کی طرف سےمیدان میں ہیں۔ گذشتہ 5برسوں سے سورج سونی سماجی کارکن کے طورپر حلقہ بھر میں گھوم پھر رہے تھے۔ ہر ایک پروگرام میں ان کی شرکت دیکھی گئی ، جس کا اثر یہ ہواہے کہ وہ عوامی سطح پر رابطے میں آئے اور عوام کو ان سے ایک ہمدردی بھی پیدا ہوئی۔سیاست میں یہ سب کس طرف موڑے گا کیا گل کھلائے گا وقت ہی بتائے گا۔ جب کہ سابق رکن پارلیمان مارگریٹ آلوا حلقہ میں ہی ٹھکانہ ڈالے بیٹے کی جیت کےلئے جدوجہد کررہی ہیں۔
اننت کمار ہیگڈے تشہیری میدان سے دور کیوں ہیں ؟:ہندو فائر برانڈ رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے ریاستی اسمبلی انتخابات کی تشہیر میں کہیں بھی نظر نہیں آرہےہیں۔ ساحلی پٹی پر اپنی زہر افشانی سے ماحول کو کافی متاثر کرتے تھے۔ قومی سیاست سے ریاستی سیاست کی طرف پلٹنےکی افواہیں گردش میں تھیں ۔ مگر ریاستی سیاست میں موقع نہیں ملنے کی وجہ سے ناراض ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔ ساحلی پٹی پر اپنے خاص حمایتیوں کی ٹیم رکھنے والےاننت کمار ہیگڈے کا تشہیری میدا ن سے دوررہنا بی جےپی کے لئے نقصان بتایاجارہاہے۔